آج کل gimp کے ساتھ چھیڑخانی کا شوق چڑھا ہوا ہے۔
آپ میرے فلکر پر بھی دیکھ سکتے ہیں
۔۔۔ ویسے اس شعر کے مطلب سے بھی ہمیں کچھ غرض ہے۔ کوئی بلاگر اس شعر کا اچھا سا مطلب بھی مجھے سمجھا دے جو کیا ہی بات ہوگی۔۔۔![]()
Popularity: 16% [?]
ابن انشاء تو میرے بے انتہا پسندیدہ شعراء میں سے ہیں۔لیکن ان کی یہ نظم مجھے بے انتہا پسند ہے اور اس کی ویڈیو اور کمپوزیشن نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا ہے مجھے نہیں پتہ کہ اس کی موسیقی اور کمپوزیشن کس کی ہے۔۔ لیکن ہے کمال کی۔۔۔۔حالانکہ اندازہ ہے کہ یہ ویڈیو اور نظم کوئی بیس سال پرانی ہوگی لیکن پاکستان کے حالات اس سے زرا بھی نہیں بدلے۔۔۔ آپ اسے ضرور سنئیں گا۔۔۔
Popularity: 42% [?]
مجھے دریچہ نے 22 جون کو اور جہانزیب نے 23 جون کا ٹیگ کیا تھا، مجھے نہیں پتا کہ میں کس کا جواب دے رہا ہوں
میرے نیٹ نے غائب رہنے کی کئی وجوہات ہیں مجھے پتہ ہے کہ میری مصروفیات سے آپ کا کیا لینا دینا لیکن مجھے بتائیے بغیر کہاں چین آنا ہے۔ آخر صحبت کا اثر بھی اپنا رنگ دیکھاتا ہے (کسی خاص کے لیے) ۔۔۔
۔ پہلے تو ہم چلے گئے اپنے کچھ لنگوٹیا دوستوں کے ساتھ پاکستان کے حسین علاقوں یعنی شمالی علاقہ جات۔۔ ان کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے سنائو گا بعد میں انشاءاللہ اگر زندگی اور مصروفیات نے موقع دیا تو ۔۔۔۔ پھر ابو جان کے کہنے پہلے ان چھٹیوں میں اک شاٹ کورس میں داخلہ لینا پڑا۔۔ بھلا بچوں کو کچھ چھٹیاں تو ٹینشن فری گزاری چاہیں
۔۔۔ لیکن نہیں۔۔۔۔ بس پھر واپس آ کر تھوڑا ریسٹ وغیرہ لیا اور پھر بس۔۔۔۔۔
اف پھر وہی ہوا نہ۔۔ اصل بات تو بھول ہی گیا ۔۔ تو ٹیگ ڈوری کی بات ہو رہی تھی۔۔۔۔۔لہذا کچھ بھی اپنے الفاظ ضائع کیے بغیر سلسلہ شروع کیے دیتے ہیں۔۔۔
سب سے پہلے اس "گیم" کے اصول
ا) کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے ۔
ب) جِس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے ۔
ج) سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے ۔
پوچھے گئے سوالات اور میرے جوابات کم فضولیات
1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟
جرابیں جو میں نے اس وقت پہنی ہیں ان کا اصل رنگ تو دو تین دن پہلے سفید تھا۔
۔ لیکن اب وہ مٹیالے رنگ کی ہو گئی ہیں اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے یہ ایک مستقبل کے اچھے انجنئیر کی نشانی ہے![]()
2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟
امی کی ڈانٹ۔۔ کھانا کھا لو آ کے اب۔۔۔۔ ایس منڈے دا میں کی کراں۔۔
۔۔
3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟
مممم۔۔۔۔۔۔۔ بگ میک![]()
4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟
اپنی بہن کی منگنی کی۔۔۔۔۔۔۔ آ آ آ ۔۔ کوئی 65ویں دفعہ![]()
5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟
سب سے عقلمند میں ہوں (صدر مشرف)![]()
6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟
پتہ نہیں ۔۔۔ میں کونسا گھڑی دیکھ رہا تھا![]()
7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟
ہٹلر سے۔۔۔۔ اس سے پوچھتا کہ وہ اتنے سارے یہودی کس کھاتے میں چھوڑ گیا ہے۔۔۔ مصیبت خانے![]()
![]()
غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟
اونچا چیخ چلا کے ۔
۔۔۔ جب ادگر گرد والے واقعی ڈر جاتے ہیں ۔۔ تب تک![]()
9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟
کچھ نجی بھی ہوتا ہے![]()
10) آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟
جس دن آخری پرچہ ہوتا ہے۔۔۔ اہ واو۔۔۔ مت پوچھو کیا خوشی ہوتی ہے۔۔۔![]()
![]()
۔
میں کن کن کو ٹیگ ڈوری تھما رہا ہوں۔۔ یہ میں ان کے بلاگز پر لکھ دوں گا۔۔۔ اک تو پہلے ہی اتنا لیٹ ہو گیا ہوں۔۔کافی تلاش کرنا پڑے گی شاید۔۔
Popularity: 31% [?]
پچھلے دونوں ہی میرے دوسرے سمیسٹر کے فائنلز کا خاتمہ ہوا تھا اور ساتھ ہی میرا کمپیوٹر خراب ہو گیا۔ اس حالت میں جتنی مجھے تپ چڑھی اس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔ جب میں پڑھاءی میں مصروف تھا تو ہمشیہ میرا دل کمپیوٹر پر بیٹھنے کو کرتا رہتا تھا اور کمپیوٹر بھی 24 گھنٹے مجھے اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے تیار رہتا تھا۔ لیکن جیسے ہے امتحان ختم ہوئے میرا کمپیوٹر بھی مجھے سے بے وفائی کر گیا اور کسی حد تک میرا جوش بھی۔۔
بڑی مشکل سے میں سے اسے ٹھیک کروایا ہے۔ آپ سب سے درخواست ہے کہ میری امتحانات میں کامیابی کے لیے دعا کریں۔ بڑی مہربانی ہوگی۔ اسی دوران بہت سے اہم ایونٹز بھی گزر گیے جن میں تبصرہ نہیں کر سکا۔ آئی پی ایل سے لیکر وکلا لانگ مارچ تک۔۔۔ اور تو اور 9 جون کو میری سالگرہ بھی پھوکی گزر گئی۔۔۔ اس دن تو میرا مکینکس کا پیپر تھا۔۔۔ چلو خیر اب سے سہی۔۔۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر۔۔
Popularity: 49% [?]
خیبر ایجنسی سے اغواء ہونے والے افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر طارق عزیز الدین Tariq Azizuddin کی ایک ویڈیو عرب ٹی وی نے آن ائیر کی ہے جس میں انھیں طالبان کی قید میں دیکھایا گیا ہے۔ دی نیوز کی خبر کے مطابق ویڈیو میں پاکستانی سفیر نے پاکستانی حکومت سے طالبان کے مطالبات ماننے کی دوخواست کی ہے تاکہ وہ اور ان کے دو اور ساتھی آزادی حاصل کر سکیں۔
پاکستانی سفیر جب وہ 11 فروری کو افغانستان جا رہے تھے تو خیبر ایجنسی کے علاقے سے ان کے دو ساتھیوں سمیت نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا تھا۔ تاہم اس کے فورا بعد ہی یہ خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ یہ کام پاکستانی طالبان کا ہے۔
پاکستانی طالبان کی ترکیب جو کہ ایک دو سال ہی پرانی ہے، بہت جلد عام ہو گئی ہے۔۔ اس سے پہلے طالبان کے نام سے ذہن میں صرف افغانستان کا ہی نام آتا تھا لیکن اب پاکستانی حدوں میں بھی طالبان
تحریک نے زور پکڑا ہے۔ اگر پاکستان پالیسوں، فوجی افسران کی نااہلی اور سیاسی صورتحال یہی رہی تو مجھے ڈر ہے کہ آئندہ پانچ سال میں نہیں تو دس سال میں تو یہ عناصر اسلام آباد تک پہنچ ہی جائیں گے۔ اسلام سے کسے محبت نہیں لیکن میرا خیال ہے طالبان کی وجہ سے اسلام کی خدمت بہت بہت کم ہوئی ہے جبکہ اس تحریک سے اسلام کا نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ ان کا طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے۔ انھوں نے شازشی قوتوں اسلام کے خلاف بولے کے بہت سے جواز پیدا کر کے دیئے ہیں۔ اگر وہ یہی قوت صرف اور صرف اسلامی دعوت، تبیلغ اور اسلام کی اشاعت میں صرف کرتے تو حالات بہت مختلف ہوتے۔ مانا کہ یہود و نصاریٰ کبھی آرام و سکون سے نہیں بیٹھ سکتے لیکن پھر بھی یہ طریقہ کار نسبتا زیادہ بلکہ بہت زیادہ بہتر ہوتا۔۔
Popularity: 90% [?]
لاہور ایک زندگی سے بھرپور شہر ہے جس کے اصلی شہری، جنھیں عرف عام میں "لاہوری" کہا جاتا ہے نہایت پر خلوص، ملنسار، معصوم، موج مستی کے دیوانے، حب الوطن اور مذہب سے پیار کرنے والے ہیں۔ لاہور کے اردگرد سے آنے والے کئی لوگوں نے اس کے خاص پن کو دھندلا دیا ہے حالانکہ کہ ہم بھی لاہور کے ایک مضافاتی قصبے، پتوکی Pattoki سے یہاں منتقل ہوئے ہیں۔ (پتوکی کی فلاور نرسریاں پورے ملک میں مشہور ہیں یا کم از پنجاب میں) میرے ایک استاد محترم واقعہ سناتے ہیں کہ آج سے کوئی 25 سال پہلے رات سے تین بجے جب وہ اسٹاپ پر کھڑے ویگن کا انتظار کر رہے تھے تو ایک کار ان کے پاس آکر رکی۔ جس میں ایک لاہوری فیملی بیٹھی ہوئی تھی۔ سربراہ نے جو کہ کار ڈرائیو کر رہا تھا ہمدردی سے بولا اور لفٹ کی پیشکش کر لی ۔ میں نے اس کی محبت کو ٹٹول کر اس کی پیشکش قبول کر لی اور پھر وہ اور اسکی فیملی مجھے میرے گھر تک چھوڑ کر آئے۔ رستے میں ان کی اور انکی فیملی کی زندہ دلی اور خالص پن کا اندازہ مجھے ہو گیا تھا۔
لیکن آج کل اول تو آپ کو لفٹ دینے کے لیے کوئی روکے گا ہی نہیں اور اگر روکے گا بھی تو 99٫99 فی صد ان کی نیت ٹھیک نہیں ہوتی۔ میں اس طرح کے بھی کئی واقعات سن چکا ہوں۔ لہذا میرا مشورہ ہے کہ آج کل کسی سے لفٹ نہیں ہی لی جائے بلکہ کسی اجنبی سے بات بھی نہ کی جائے۔
Popularity: 91% [?]
ایک خبر کے مطابق اکتوبر 2002 کے انتخابات کے بعد تب کے وزیر خزانہ شوکت عزیز صاحب نے سیاسی طور پر با اثر افراد کے زیر اثر ایک سکیم کے تحت بینکوں سے لیے گیے 54 ارب روپے کے قرضے معاف کروا لیے ہیں دوسری جانب ورلڈ بینک نے پاکستانی معیشت کی گرتی ہوئی صورتحال کو سنھبالہ دینے کے لیے مشورہ دیا ہے کہ وہ بجلی کے نرخ بڑھا دے۔ یعنی امیروں کی طرف سے کیے گیے ملک کے نقصان کو غریبوں کو نچوڑ کر پورا کیا جائے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں غریب کسان یا کرائے دار یا ملازم پیشہ فرد کے چالیس، پچاس ہزار قرضہ نہ دے سکنے کی صورت میں اس کے خلاف نہ صرف قانونی چارہ جوئی پورے طریقے سے کی جاتی ہے بلکہ اس کی عزت کا بھی جنازہ نکال کر اور اسکی ملکیت پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ یہاں مرغی چور یا سائیکل چور کو تو پوری پوری بلکہ کہنا چائیے اس کے جرم سے کہیں زیادہ سزا دی جاتی ہے اور بڑے بڑے مگر مچھوں کو داد دے کر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
حال ہی میں سپریم کورٹ نے اس بات کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ایک بینچ کو اس کی انکوئری کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس کے لیے شریف الدین پیرزادہ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی مدد کریں۔ (حفیظ الدین پیرزادہ پاکستان کے پیچارے آئین کو توڑنے مڑوڑنے اور چھنچھونے کے ماہر ہیں، انھوں نے ہر پاکستانی فوجی آمر لمبے عرصے تک ناجائز حکمرانی کے نام نہاد قانونی بہانے مہیا کیے ہیں )۔
Popularity: 94% [?]
جاوید ہاشمی (ایم این اے، نواز لیگ)، عمران حسن گیلانی کے سسر ہیں جو کہ سید تنویر الحسن گیلانی کے بیٹے ہیں جو کہ سید یوسف رضا گیلانی (وزیر اعظم پاکستان) کے کزن ہیں جو کہ سید عبدلقادر گیلانی کے باپ ہیں جو کہ بسماء شاہ کے خاوند ہیں جو کہ پیر صاحب بگاڑا (مسلم لیگ فنکشنل چیف) کی نواسی ہیں۔
سید یوسف رضا گیلانی (وزیر اعظم پاکستان) حسن محمود گیلانی (سابق بہاولپور ریاست کے وزیر اعظم) کے بھتیجے ہیں جو کہ جہانگیر ترین (مشرف دور کے وزیر) کے سسر ہیں جو کہ اللہ نواز ترین () کے بیٹے ہیں جو کہ قاضی اختر خان () کے انکل ہیں جو کہ جنرل ر رحیم الدین خان (سابق گورنر سندھ) کے داماد ہیں جو کہ محمد اعجاز الحق (مشرف دور کے وزیر) کے سسر ہیں جو کہ چوہدری پرویز الہی (سابق وزیر اعلی پنجاب) کی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے حلیف ہیں۔
بیگم اشرف عباسی (سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی) ڈاکٹر صفدر علی عباسی (سینیٹر) کی ماں ہیں جو کہ ناہید خان (بینظیر بھٹو شہید کی سیکریٹری) کے خاوند ہیں جو کہ انیلا خان (صحافی) کی بہن ہیں جو کہ حسین حقانی (پاکستان کے گشتی وزیر، متوقع امریکا میں پاکستان کے سفیر) کی سابق بیوی ہیں جو کہ نگہت چودھری (کلاسیکل ڈانسر) کے سابق خاوند ہیں جو کہ عمران اسلم (صدر جیو ٹی وی) کی سابق بیوی ہیں۔
آصف علی ذرداری (شریک چئرمیں پی پی پی) ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بہت اچھے دوست ہیں جو کہ ڈاکٹر فہمیدا مرزا (سپیکر قومی اسمبلی) کے خاوند ہیں۔ ڈاکٹر فہمیدا مرزا، قاضی عبدالمجید عابد (سابق وفاقی وزیر) کی بیٹی ہیں، جو کہ قاضی سید اکبر (سندھ کے ممتاز سیاستدان) کے بھائی تھے۔ جو کہ محمد اسلم قاضی (وائس چئیرمین کے ٹی این) کے باپ تھے۔ جو کہ حمید ہارون (CEO PHPL) کے بہت قریبی دوست ہیں۔
بینظیر بھٹو شہید، ذوالفقار علی بھٹو شہید کی بیٹی تھیں جو کہ جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں ہٹائے گئے، جن کے بیٹے نے سابیقہ رحیم الدین (مصنف، ناول نگار) کی بیٹی سے شادی کی جو کی ڈاکٹر محمود حسن (سابق وزیر تعلیم) کی بیٹی ہیں جو کہ ڈاکٹر ذاکر حسین (سابق بھارتی صدر) کے بھائی تھے جو کہ اندرا گاندی کے دور میں بھارت کے صدر تھے۔
ایس ایم ظفر (سینٹر اور ممتاز وکیل) تسلیم ظفر کے خاوند ہیں جہ کہ طاہرہ سید (ممتاز گلوکارہ) کی بہن ہیں جو کہ نعیم بخاری (وکیل، ممتاز اینکر پرسن) کی سابقہ بیوی ہیں جو کہ راحت کاظمی (ممتاز اداکار) کے بہت قریبی دوست ہیں جو کہ ساحرہ کاظمی (اداکارہ) کے خاوند ہیں جو کہ SHYAM (بھارتی اداکارہ) کی بیٹی ہیں۔
چودھری وجاہت (پی ایم ایل ق) جوکہ اختر نواز (سابق سینیٹر) کے داماد ہیں، جو کہ گوہر ایوب (سابق قومی اسمبلی کے سپیکر) کے کزن ہیں جو کہ صدر ایوب خان (سابق جنرل اور صدر پاکستان) کے بیٹے ہیں جو کہ پاکستان کے صدر تھے جب مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ تھے جو کہ ملک اللہ یار (سابق ایم این اے) کے باپ تھے جو کہ فاروق لغاری (سابق صدر پاکستان) کے سالے ہیں۔ فاروق لغاری کی بیگم، آفتاب احمد خان شیر پاو کی بھتیجی ہیں۔
اس کے بارے میں مضمون ماہنامہ ہیرالڈ میں شائع ہوا ہے۔
Popularity: 100% [?]
بڑے دنوں کی بات ہے
مجھے تو اب یاد بھی نہیں
فضا عجب تھی لہر میں
میں جا رہا تھا شہر میں
اک گلی کے موڑ پر
کسی نے ہاتھ جوڑ کر
بڑی ادا سے یہ کہا
میری قسم ذرا رکو
میری قسم ذرا تھمو
میں اس کے دل کو توڑ کر
اور اس کو روتا چھوڑ کر
میں اک شان سے گزر گیا
مجھے تو اب یاد بھی نہیں
پھر اک اداس شام کو
میں چل پڑا اس راہ کو
پھر اسی گلی کے موڑ پر
میں رکا دل کو توڑ کر
مگر وہاں تھا نہ کوئی
جو کہتا ہاتھ جوڑ کر
میری قسم ذرا رکو
میری قسم ذرا تھمو
Popularity: 83% [?]
عصیاں سے کبھی ہم نے کنارا نہ کیا
پر تو نے دل ارزاں ہمارا نہ کیا
ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر
لیکن تیری رحمت نے گوارا نہ کیا
Popularity: 84% [?]